World
ایرانی وزیر خارجہ چین میں، جنگ کے خاتمے کے لیے بیجنگ کی ثالثی
ایرانی وزیر خارجہ موجودہ جنگی صورتحال کے تناظر میں چین کا اہم دورہ کر رہے ہیں۔ بیجنگ کی جانب سے اس تنازع کو ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
تہران: جاری جنگی بحران کے درمیان ایرانی وزیر خارجہ نے اہم دورہ چین کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال اور خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دورے کے دوران اہم علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی تاکہ موجودہ تنازع کے پرامن حل کی راہیں تلاش کی جا سکیں۔
دوسری جانب، چین نے اس خطے میں جاری جنگ کو بند کرانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بیجنگ انتظامیہ خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کا ماننا ہے کہ اس تنازع کا فوجی حل ممکن نہیں ہے بلکہ بات چیت اور سفارتی ذرائع سے ہی پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے اس دورے سے چین اور ایران کے مابین اسٹریٹجک تعاون مزید گہرا ہوگا اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی اہم لائحہ عمل سامنے آئے گا۔ عالمی برادری بھی اس دورے کو انتہائی غور سے دیکھ رہی ہے کیونکہ چین کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو تہران کے ساتھ قریبی اقتصادی اور سیاسی تعلقات رکھتے ہیں اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ کے حامل ہیں۔