Politics
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا مواخذہ، ریپبلکن رکن کی جانب سے مطالبہ
ریپبلکن پارٹی کے نمائندے تھامس میسی نے ایرانی جنگ اور بیرون ملک فوجی مداخلت کی شدید مخالفت کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مواخذے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ قدم واشنگٹن میں دفاعی پالیسیوں اور مشرق وسطیٰ کے امور پر بڑھتے ہوئے سیاسی تناتر کا پتہ دیتا ہے۔
واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی سیاست میں اس وقت ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا جب ریپبلکن پارٹی کے نمائندے تھامس میسی نے کھلم کھلا امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مواخذے کا مطالبہ کر دیا۔ تھامس میسی کو پہلے ہی امریکی حکومت کی جانب سے بیرون ملک کی جانے والی فوجی مداخلتوں اور خاص طور پر ایران کے خلاف مبینہ جنگی رجحانات کا ایک بڑا ناقد سمجھا جاتا ہے۔ ان کا یہ تازہ ترین بیان دفاعی محکمے کی موجودہ قیادت اور پالیسیوں پر شدید سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
تھامس میسی نے اپنے سیاسی مؤقف میں واضح کیا ہے کہ امریکی آئین اور قوانین کے مطابق کسی بھی قسم کی جنگی کارروائی یا غیر ملکی مداخلت کے لیے کانگریس کی باضابطہ منظوری انتہائی ضروری ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ وزارت دفاع کی موجودہ قیادت ملک کو غیر ضروری تنازعات کی طرف دھکیل رہی ہے جو کہ قومی مفاد کے بالکل خلاف ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک ہی جماعت یعنی ریپبلکن پارٹی کے اندر سے اس قسم کی مخالفت اور وہ بھی وزیر دفاع جیسے اہم ترین عہدے دار کے خلاف مواخذے کا مطالبہ، واشنگٹن کے اندرونی سیاسی منظر نامے میں گہری دراڑوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب، تاحال وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے حکام کی جانب سے اس مواخذاتی مطالبے پر کوئی باضابطہ اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ امریکی پارلیمنٹ یعنی کانگریس کے اندر ایک گرم بحث کا موضوع بنے گا، جہاں دیگر قانون ساز اس معاملے پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ میں بیرونی جنگی پالیسیوں اور دفاعی اخراجات پر اندرونی سیاسی دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔