World
یونان میں برطانوی خاتون کی پراسرار موت، تحقیقات میں تیزی
یونانی حکام نے برطانوی خاتون الزبتھ جین راس کی سوٹ کیس سے ملنے والی لاش کے معاملے میں ٹاکسیولوجی ٹیسٹ تیز کر دیے ہیں۔ پولیس ابھی تک یہ واضح نہیں کر سکی کہ موت قتل ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ کارفرما ہے۔
ایتھنز: یونانی حکام نے برطانوی خاتون الیزبتھ جین راس کی پراسرار موت کے معاملے میں تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے فرانزک ٹیسٹوں کو تیز کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک سوٹ کیس سے برطانوی خاتون کی لاش برآمد ہوئی، جس نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واضح کرنا قبل از وقت ہو گا کہ آیا اس موت کو باقاعدہ قتل تصور کیا جائے یا اس کے پس پردہ کوئی اور طبی یا حادثاتی وجوہات شامل ہیں۔ پولیس اور متعلقہ تحقیقاتی ادارے تمام زاویوں سے معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ٹاکسیولوجی اور دیگر اہم طبی ٹیسٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ موت کی حتمی وجہ کا تعین کیا جا سکے اور سائنسی شواہد کی روشنی میں حقیقت سامنے لائی جا سکے۔ برطانوی خاتون کی لاش ملنے کی اس خبر نے دونوں ممالک کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور برطانوی سفارتی حکام بھی یونانی پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ٹاکسیولوجی رپورٹس آنے کے بعد کیس کی نوعیت کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی، جس سے یہ فیصلہ کیا جا سکے گا کہ آیا اس معاملے میں فوجداری مقدمہ درج کر کے باقاعدہ قتل کی تفتیش شروع کی جائے یا نہیں۔ یونانی پولیس نے اس حساس معاملے پر فی الحال مزید تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا ہے لیکن عزم ظاہر کیا ہے کہ جلد ہی تمام حقائق عوام اور میڈیا کے سامنے لائے جائیں گے۔