LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے خطرات اور عالمی رہنماؤں کا ردعمل

News Image
انٹراپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی کی جانب سے ایڈوانسڈ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار سست کرنے کے مطالبے نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے۔ اس معاملے پر ایلون مسک اور سیم ألٹمین سمیت کئی اہم شخصیات اور عالمی حکومتوں نے اپنے تحفظات اور خیالات کا اظہار کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی کے درمیان اس کے ممکنہ خطرات اور 'اے آئی ڈوم' کے خدشات پر دنیا بھر کے بڑے ٹیک رہنماؤں اور عالمی حکومتوں کے درمیان شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ حال ہی میں انٹراپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ ایڈوانسڈ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو کچھ عرصے کے لیے سست کیا جانا چاہیے تاکہ اس کی سلامتی کے اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے اس بیان کو اسپیس ایکس کے ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم ألٹمین کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے، جس سے اس ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مستقبل کے حوالے سے فکرمندی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ڈاریو امودی کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اے آئی کی صلاحیتوں میں خطرناک حد تک تیزی آئی ہے اور بغیر حفاظتی حصار کے اس کی مزید ترقی انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، اوپن اے آئی کے سربراہ سیم ألٹمین نے بھی ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کمپنی بھی ایسے آزادانہ جائزوں کو اپنانے کا ارادہ رکھتی ہے جو اس ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کو یقینی بنا سکیں۔ انہوں نے ماضی میں بھی خبردار کیا تھا کہ انسانیت سے بالاتر مشین انٹیلی جنس کا حصول انسانی وجود کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کا کہنا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت مصنوعی ذہانت کے معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔ انہوں نے اے آئی کے مثبت استعمال کے ساتھ ساتھ ملازمتوں پر اس کے منفی اثرات اور حفاظتی چیلنجز کے پیش نظر ایک بین الاقوامی تنظیم بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، گوگل اور الفابیٹ کے اعلیٰ عہدیداران اور دیگر ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ انڈسٹری کو اکٹھے ہو کر حفاظتی اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ عالمی حکومتوں کی سطح پر بھی اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکہ میں جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے صرف ایک مضبوط اور ذہین قیادت کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف امریکی سینیٹ میں بھی اس حوالے سے نئی قانون سازی پر بحث جاری ہے۔ چین کے سرکاری ذرائع نے ان خدشات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے مطالبات کا مقصد دراصل چین کی تکنیکی ترقی کو روکنا اور عالمی منڈی میں اجارہ داری قائم رکھنا ہے۔ اس دوران یورپی یونین اور جرمنی جیسے ممالک بھی ڈیجیٹل خود مختاری کو برقرار رکھنے اور مصنوعی ذہانت کے محفوظ ضوابط وضع کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کے خطرات سے بچتے ہوئے اس کے فوائد حاصل کیے جا سکیں۔