LIVE
Loading Breaking News...

چین میں قومی سلامتی کے تحت نئے سفری ضوابط اور ایگزٹ بینز کا نفاذ

News Image
چین نے قومی سلامتی، صنعتی اور تکنیکی مفادات کے تحفظ کے لیے شہریوں پر نئے اور سخت سفری ضوابط نافذ کر دیے۔ ان قواعد کے تحت تکنیکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک چھوڑنے سے روکا جا سکتا ہے۔
بیجنگ: چین نے منگل کے روز اپنے شہریوں کے لیے وسیع پیمانے پر سفری پابندیوں کا نفاذ کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک کی صنعتی اور تکنیکی سلامتی کا تحفظ بتایایا گیا ہے۔ اسٹیٹ کونسل کے جاری کردہ نئے ضوابط کے تحت ان افراد پر ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے جنہیں ملک کی تکنیکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کی درآمد اور برآمد کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کو بھی چین سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان نئے قوانین کا بنیادی مقصد قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق جو شہری بیرون ملک غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوں گے، انہیں چین واپسی کی تاریخ سے لے کر چھ ماہ سے تین سال تک کی مدت کے لیے ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے ٹیکنالوجی کی دوڑ جاری ہے، اور حالیہ مہینوں میں دونوں فریقین ایک دوسرے پر مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعی ذہانت (AI) ماڈلز کی صلاحیتیں چرانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ جولائی میں متعارف کروائے جانے والے یہ قوانین اب باضابطہ طور پر منگل کے روز سے نافذ العمل ہو چکے ہیں۔ تاہم، اس حوالے سے عالمی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ نئے ضوابط چین کو ایک بہت وسیع دائرہ اختیار دیتے ہیں۔ سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے چانگ جا ایان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سلامتی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی تعریفیں مبہم ہو سکتی ہیں اور حالات کے مطابق ان میں آسانی سے ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی دنیا کو ان قواعد کے حقیقی اطلاق کا علم اس وقت ہوگا جب اس کے تحت عملی مقدمات سامنے آئیں گے۔ تجزیہ کاروں نے غیر ملکی شہریوں پر عائد ہونے والے ایگزٹ بینز کا ذکر کرتے ہوئے اس خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس قانون کا دائرہ کار کافی وسیع اور ممکنہ طور پر من مانا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، سنگاپور کی نanyang ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیلن لوہ کا کہنا ہے کہ یہ سفری پابندیاں ایک واضح پیغام دیتی ہیں کہ چین سلامتی یا قومی مفاد کے حساس شعبوں میں کسی بھی قسم کے سیکیورٹی خدشات یا لیکس کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر تکنیکی اجارہ داری اور ڈیٹا سیکیورٹی کو لے کر سپر پاورز کے درمیان رسہ کشی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور چین اپنی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت قانونی اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے۔