Politics
نئے صوبوں کا قیام، انتظامی چیلنجز اور سیاسی حقائق پر تفصیلی تجزیہ
ملک میں مزید نئے صوبے بنانے کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے انتظامی بہتری کی بجائے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ بہتر عوامی خدمات کے لیے صوبوں کی تقسیم کی بجائے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
ملک میں ایک بار پھر انتظامی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے نام پر نئے صوبے بنانے کی بحث زور و شور سے جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکمران طبقہ اکثر حقیقی اصلاحات اور درست پالیسیوں سے گریز کرتے ہوئے ایسے مبہم نعروں کا سہارا لیتا ہے جو عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا دیں۔ عالمی سطح پر کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ محض نئے انتظامی یونٹس بنانے سے نہ تو معاشی شرح نمو میں بہتری آتی ہے اور نہ ہی عوامی خدمات کا معیار بلند ہوتا ہے۔ کمزور ریاستوں کے عالمی اشاریے پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ بہت سے ایسے ممالک جو زیادہ انتظامی اکائیاں رکھتے ہیں، وہ اندرونی طور پر شدید بدانتظامی اور بحران کا شکار ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی ریاستی صلاحیت محدود ہے، نئے صوبوں کا قیام انتظامی ڈھانچے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ایک طرف اگر سرائیکی خطے کی سطح پر نئے صوبے کے قیام کے کچھ معاشی اور انتظامی دلائل موجود ہیں جو قومی توازن کو بہتر بنا سکتے ہیں، تو دوسری طرف سندھ یا اسلام آباد جیسی اکیوں کی تقسیم کے اپنے سنگین سیاسی اور تاریخی نقصانات ہیں۔ سندھ جیسے اہم خطے کی تقسیم جہاں اہم تجارتی راستے موجود ہیں، سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت کو صوبہ بنانے کے خیالات بھی بین الاقوامی روایات اور معاشی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد کا نہیں بلکہ اختیارات کی نچلی سطح پر اصل منتقلی کا ہے۔ جب تک مقامی حکومتیں مضبوط اور بااختیار نہیں ہوں گی، اس وقت تک عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ نچلی سطح پر اختیارات کی عدم موجودگی کی وجہ سے عوام کو بنیادی سہولتیں حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، حالیہ دور میں ریاستی صلاحیت کی کمی فاٹا انضمام جیسے نسبتاً آسان عمل میں بھی واضح ہو چکی ہے، لہٰذا بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیاں سکیورٹی اور انتظامی لحاظ سے نئے خطرات کو جنم دے سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران طبقہ روایتی اور متنازعہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسیوں کو چھوڑ کر سنجیدہ معاشی اور سیاسی اصلاحات پر توجہ دے۔ مضبوط اداروں کی تشکیل، شفاف پالیسی سازی اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی ہی ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکتی ہے۔