LIVE
Loading Breaking News...

سٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی: شرح سود پر کاروباری برادری میں تقسیم

News Image
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود سا ساড়ে گیارہ فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر کاروباری طبقہ منقسم دکھائی دے رہا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جبکہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر نے اسے متوازن قرار دیا ہے۔
لاہور اور اسلام آباد میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود کو ساڑھے گیارہ فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد ملکی کاروباری برادری میں شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ جہاں ایک طرف تجارتی تنظیموں کے بعض طبقات نے اسے معاشی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا ہے، وہیں دوسری طرف ملک کی بڑی تجارتی تنظیموں نے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اسے صنعتی سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اس فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتیں اور تجارت موجودہ جمود کے شکار معاشی ماحول میں سانس لینے کی متلاشی تھیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مانیٹری پالیسی اس وقت واحد اور مؤثر ہتھیار تھا جس کے ذریعے معیشت کو ریلیف فراہم کیا جا سکتا تھا، مگر مرکزی بینک نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جولائی تا اگست تجارتی خسارے میں اٹھارہ فیصد سے زائد اضافے کے باوجود شرح سود کو سنگ ہندس میں نہ لانا زمینی حقائق کے منافی ہے۔ دوسری جانب اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے سٹیٹ بینک کے اس فیصلے کو موجودہ معاشی ماحول میں ایک متوازن اور دانشمندانہ قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلند مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلات زر کے تناظر میں مزید سختی سے گریز کرنا درست فیصلہ ہے، تاہم اس وقفے کو ساختی اصلاحات کا نعم البدل نہیں سمجھنا چاہیے۔ دریں اثنا، راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت نے بھی اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر ایک مستحکم مانیٹری پالیسی ہی ملک کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ تاہم کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے بلند شرح سود کو صنعتی بحالی اور برآمدات میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاجر برادری ایک طویل عرصے سے کثیر جہتی چیلنجز کا شکار چلی آ رہی ہے۔