LIVE
Loading Breaking News...

جماعت اسلامی نے فیول ریلیف پیکج مسترد کر دیا

News Image
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے پیش کردہ فیول ریلیف پیکج کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبات کی منظوری کے لیے دارالحکومت کی طرف مارچ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے فیول ریلیف پیکج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس فیصلے سے آگاہ کیا اور موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر پارٹی کے مؤقف کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اور اس طرح کے نام نہاد ریلیف پیکجز مسائل کا مستقل حل نہیں ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران لیاقت بلوچ نے انکشاف کیا کہ جماعت اسلامی کے ایک وفد نے حکومتی ٹیم کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں جن میں آئی پی پیز اور لیوی جیسے اہم تکنیکی امور پر بات چیت کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اگرچہ تکنیکی معاملات پر گفتگو ہوئی تاہم عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے وہ مطالبات پورے نہیں کیے گئے جن کی جماعت اسلامی توقع کر رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت نے حکومت کے ساتھ کسی بھی سمجھوتتے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی نمائندے کیانی کا کہنا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک کو درپیش مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ ملک کو معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔ تاہم جماعت اسلامی نے واضح کر دیا ہے کہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاجی تحریک ہی واحد راستہ بچی ہے۔ لیاقت بلوچ نے کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسلام آباد مارچ کے لیے بھرپور تیاریاں شروع کر دیں تاکہ حکومت کو عوام دشمن پالیسیاں بدلنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس اعلان کے بعد ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔