World
آسٹریلیا: کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پابندی اور اس کے اثرات
آسٹریلوی حکومت نے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا دفاع کیا ہے۔ ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پابندی کے تین ماہ بعد بھی اکثر نو جوان اس سے بچنے کے طریقے تلاش کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
آسٹریلوی حکومت نے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر عائد کردہ پابندی کا بھرپور دفاع کیا ہے، حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس پابندی کے نفاذ کے تین ماہ بعد بھی ملک کے اکثر نو جوان مختلف طریقوں سے آن لائن موجود ہیں اور پابندی کو بائی پاس کر رہے ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس قانون سازی سے طویل مدت میں مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق، نوعمر بچوں نے اس پابندی سے بچنے کے لیے مختلف تکنیکی طریقے اور متبادل راستے تلاش کر لیے ہیں، جن میں وی پی این کا استعمال اور جعلی اکائونٹس بنانا شامل ہے۔ اس صورتحال نے ماہرین اور والدین کے درمیان نئی بحث چھڑ دی ہے کہ آیا اس نوعیت کی سخت حکومتی پابندیاں ڈیجیٹل دنیا میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں مکمل پابندی لگانا ایک انتہائی چیلنجنگ کام ہے۔
دوسری جانب، آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے نوجوان نسل کو محفوظ بنانے کے لیے یہ قدم اٹھانا انتہائی ضروری تھا۔ حکومت کا عزم ہے کہ وہ ٹیک کمپنیوں کے ساتھ مل کر نفاذ کے طریقوں کو مزید بہتر بنائے گی تاکہ بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور کم عمر صارفین کو نقصان دہ مواد سے بچایا جا سکے۔