Pakistan
میر رضا کیس: والدین پر دباؤ اور کمیشن میں اہم انکشافات
مرحوم کاروباریمیر رضا کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر سمیہ کے بیان کے بعد ان کے مؤکل کو نامعلوم افراد کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔ والد نے اپنے بیٹے کی موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف پر ایک بار پھر سختی سے رد کیا ہے۔
کراچی کے معروف کاروباری شخصیت مرحوم میر رضا علی کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے انکوائری کمیشن کے سامنے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاکٹر سمیہ کے حالیہ بیان کے بعد سے میر رضا کے والدین کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ والد کو ایک رات گئے موصول ہونے والی فون کال کے ذریعے ہراساں کیا گیا اور مختلف افراد کے بارے میں سوالات پوچھے گئے۔ اس معاملے میں قانونی ٹیم کی جانب سے کمیشن کو تمام صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ حقائق تک رسائی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، میر رضا علی کے والد شروع ہی سے اس بات پر قائم ہیں کہ ان کے بیٹے کی موت کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ حقیقت کے برعکس ہے۔ والد اور ان کے قانونی مشیر جبران ناصر نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس پراسرار موت کے اصل محرکات سامنے آ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نامزد افراد اور اس واقعے کے پس پردہ موجودہ تمام پہلوؤں کو سامنے لانا اب انتہائی ضروری ہو چکا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
انکوائری کمیشن اس حساس معاملے پر تمام فریقین کے بیانات ریکارڈ کر رہا ہے اور اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ کن حالات میں مرحوم کو دباؤ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ قانونی حلقوں کی جانب سے اس پیشرفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنی قانونی جنگ لڑ سکیں۔ کمیشن کی جانب سے اس کیس میں مزید گواہوں اور شواہد کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔