Politics
ایف سی سی کا عمران خان اسپتال منتقلی کیس کا ریکارڈ طلب کرنے کا فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے بغیر نوٹس جاری کیے احکامات صادر کیے۔
اسلام آباد میں قائم وفاقی آئینی عدالت (FCC) نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شففا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے سے متعلق سپریم کورٹ کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ یہ کارروائی وفاقی آئینی عدالت کے احاطے میں جاری قانونی امور کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جہاں عدالتی کارروائی کے دوران اہم آئینی اور قانونی نکات زیر بحث لائے گئے۔
اس معاملے پر اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے اس نوعیت کا حکم نامہ جاری کرتے وقت وفاقی حکومت کو باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس طرح کے احکامات جاری کرنے سے قبل فریقِ ثانی کا مؤقف سننا ناگزیر تھا تاکہ قانون کے تقاضے پورے کیے جا سکیں اور تمام حقائق سامنے آ سکیں۔
ذرائع کے مطابق آئینی عدالت کو آئین کے آرٹیکل 175 ای کے تحت یہ مکمل اختیارات حاصل ہیں کہ وہ کسی بھی زیر التوا یا نمٹائے گئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر سکے۔ اسی قانونی اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے ایف سی سی نے نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ ملک کی مختلف ہائی کورٹس سے بھی اس سے ملتے جلتے کیسز کا ریکارڈ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی سیاسی اور عدالتی منظر نامے میں آئینی اداروں کے دائرہ کار اور اختیارات پر بحث جاری ہے۔ قانونی ماہرین اس پیش رفت کو آنے والے دنوں میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے عدالتوں کے مابین دائرہ اختیار اور آئینی تشریح کے نئے ابواب کھل سکتے ہیں۔