Pakistan
چشمہ فائیو جوہری پلانٹ: پاکستان اور آئی اے ای اے کا معاہدہ
پاکستان اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے 1200 میگاواٹ کے چشمہ فائیو جوہری پاور پلانٹ کے لیے سیف گارڈز کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد ملک میں جوہری توانائی کے پرامن استعمال کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق حفاظتی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے درمیان چشمہ فائیو جوہری پاور پلانٹ کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں دونوں فریقین نے باضابطہ طور پر سیف گارڈز کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کے تحت بارہ سو میگاواٹ (1,200MW) کی صلاحیت کے حامل چشمہ فائیو نیوکلیئر پاور پلانٹ کے امور میں عالمی حفاظتی اصولوں اور نگرانی کے ضابطوں کو نافذ کیا جائے گا۔ یہ قدم پاکستان میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے اور بجلی کی پیداوار کے لیے جوہری توانائی کے شعبے کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اور سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کے ساتھ یہ سیف گارڈز معاہدہ بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہے اور اس سے یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ جوہری مواد اور تنصیبات کا استعمال مکمل طور پر پرامن مقاصد اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے پرامن مقاصد کے تحت جوہری توانائی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اور عالمی اداروں کے ساتھ اس قسم کے معاہدے اس عزم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل سے ملکی گرڈ میں سستی اور قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی میں خاطر خواہ مدد ملے گی جس سے صنعتی ترقی اور معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔
توانائی کے ماہرین نے چشمہ فائیو پلانٹ کے لیے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں توانائی کے متبادل اور پائیدار ذرائع کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ پاکستان اور آئی اے ای اے کے مابین اس تعاون سے نہ صرف تکنیکی امور میں شفافیت آئے گی بلکہ عالمی برادری کا پاکستانی نیوکلیئر پروگرام پر اعتماد بھی مزید پختہ ہوگا۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے کے طے پانے کے بعد چشمہ فائیو پاور پلانٹ سے متعلقہ آئندہ کے امور اور تعمیراتی و تنصیبی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئے گی، جو کہ ملکی توانائی کے منظر نامے میں ایک مثبت تبدیلی ثابت ہوگی۔