LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا اسمبلی کا پنجاب حکومت اور پولیس کے خلاف شدید ردعمل

News Image
خیبر پختونخوا اسمبلی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو مبینہ طور پر محدود کرنے پر پنجاب حکومت اور پولیس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس واقعے کے بعد سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور رہنماؤں نے اسے حکومتی ہٹ دھرمی قرار دیا ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران اراکین نے پنجاب حکومت اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مبینہ طور پر محدود کرنے کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایوان میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے ساتھ اس قسم کا رویہ ناقابل قبول ہے اور اس سے وفاق اور صوبوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کے حامل منتخب نمائندوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا آئینی اور جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنے دورے کے شیڈول میں ردوبدل کیا ہے جبکہ جڑواں شہروں اور وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنماؤں نے بھی پنجاب پولیس کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے بدسلوکی کے یہ ہتھکنڈے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی دباؤ کے باوجود ان کا سیاسی سفر اور عوامی رابطے کی مہم جاری رہے گی۔ یاد رہے کہ اس دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں سیالکوٹ میں بھی ایک بڑی اسٹریٹ موومنٹ ریلی نکالی گئی جہاں عوام کی جانب سے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں صوبائی حکومتوں کے مابین بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے ملکی سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں اور سیاسی پنڈتوں کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے آئندہ دنوں میں کون سے سیاسی یا قانونی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔