World
امریکہ میں غیر ملکی طلباء کے نئے قوانین نافذ
امریکہ میں غیر ملکی طلباء اور زائرین کے قیام سے متعلق نئے قوانین کا آج سے نفاذ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، عدالت کی جانب سے کچھ شقوں پر حکم امتثال بھی جاری کیا گیا ہے۔
امریکہ میں غیر ملکی طلباء اور زائرین کے لیے نئے قوانین آج سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گئے ہیں۔ ان نئے قواعد و ضوابط کا مقصد امریکہ میں بین الاقوامی طلباء کے قیام اور ان کی نقل و حرکت کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں لانا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات ملک کے امیگریشن نظام کو مزید منظم اور شفاف بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں، جس سے دنیا بھر سے امریکہ آنے والے تعلیمی و سیاحتی زائرین متاثر ہوں گے۔
دوسری جانب، قانونی محاذ پر ان نئے قواعد کو شدید چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ ایک امریکی عدالت نے اس قانون کے خلاف ایک ابتدائی حکم امتثال جاری کیا ہے جو بین الاقوامی طلباء کے لیے 'ڈیوریشن آف سٹیٹس' کے داخلے کے نظام کو ختم کرنے والا تھا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد مختلف یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے بین الاقوامی طلباء کو صورتحال سے آگاہ کرنے اور ان کی رہنمائی کے لیے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ان فیصلوں پر تعلیمی حلقوں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت سیکیورٹی اور فالو اپ کو بہتر بنانا چاہتی ہے، تاہم اس سے ہزاروں بین الاقوامی طلباء کے مستقبل اور تعلیمی کیریئر پر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ طلباء کو قانونی مشورے فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ نئے قواعد کے تحت کسی بھی ممکنہ مشکل سے بچ سکیں۔
حالیہ قانونی کشمکش کے باوجود، حکام نے واضح کیا ہے کہ بنیادی نفاذ کا عمل طے شدہ وقت پر شروع ہو چکا ہے جبکہ عدالتیں مزید سماعتوں کے ذریعے اس کے حتمی اثرات کا تعین کریں گی۔ بین الاقوامی طلباء اور ان کے والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں اور وکلاء کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں تاکہ امریکہ میں اپنے قانونی قیام کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ناگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔