LIVE
Loading Breaking News...

یورپی یونین کی جانب سے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تیاری

News Image
یورپی یونین کی جانب سے 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال اور مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس پر پابندی کی تجویز پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس اقدام کا مقصد کم عمر بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات اور ذہنی دباؤ سے محفوظ بنانا ہے۔
یورپی یونین (EU) کی جانب سے ایک اہم اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے پندرہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی چیٹ بوٹس پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس مجوزہ اقدام کا بنیادی مقصد کم عمر بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ممکنہ منفی اثرات، ذہنی دباؤ اور آن لائن خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔ نیدرلینڈز اور اسپین جیسے ممالک طویل عرصے سے پورے یورپ میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر کی حد مقرر کرنے پر زور دے رہے تھے، جسے اب یورپی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔ اس مجوزہ پابندی کے نفاذ سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جنہیں کم عمر صارفین کی شناخت اور ان کی رسائی کو محدود کرنے کے لیے نئے سیکیورٹی اور تصدیقی طریقہ کار اپنانے ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور ان کے ذہنی سکون کو برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے قبل بھی کئی ممالک انفرادی طور پر اس قسم کے قوانین پر غور کر رہے تھے لیکن اب یورپی یونین کی سطح پر ہونے والی اس پیش رفت کو ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، تکنیکی ماہرین اور کاروباری حلقے اس پالیسی کے ممکنہ معاشی اور عملی اثرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ میٹا (Meta) اور دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کے حوالے سے ابتدائی تجارتی منڈیوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ پابندی کے ان خطرات کے باوجود سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ تاہم، اس پابندی کے حتمی نفاذ اور اس کی نگرانی کے طریقہ کار کے بارے میں آنے والے دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے، جو کہ بچوں کے حقوق اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے مستقبل کا تعین کریں گی۔