Business
امریکی معیشت اور تیل کی قیمتیں: جے پی مورگن کا تجزیہ
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال کے باوجود امریکی معیشت بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کو برداشت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ خاص طور پر سعودی عرب میں ہونے والے حملوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست تیزی دیکھی گئی ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمتیں ایک موقع پر 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جس سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران اور مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی مالیاتی ادارے بھی متحرک ہو گئے ہیں اور مختلف معاشی تجزیے سامنے آ رہے ہیں۔ اس تمام تناظر میں مشہور مالیاتی ادارے جے پی مورگن نے ایک اہم تجزیہ پیش کیا ہے جس کے مطابق امریکی معیشت ان بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے اثرات کو برداشت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ جے پی مورگن کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ توانائی کی بلند قیمتیں دنیا بھر کے کاروبار اور عام صارفین کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں، لیکن امریکی معیشت کی بنیادیں اتنی مستحکم ہیں کہ یہ اس بحران سے زیادہ متاثر نہیں ہوگی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں توانائی کے ذرائع اور پیداوار میں تنوع پایا جاتا ہے جو کسی بھی بیرونی جھٹکے کے وقت معیشت کو سہارا دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب، سعودی عرب پر حملوں اور رس رسد کے خدشات کی وجہ سے تیل کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے اثرات دیگر ممالک کے علاوہ عالمی تجارت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ عراق کے بصرہ میڈیم خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق دیکھا گیا ہے اور اسے مختلف مارکیٹوں میں نمایاں ڈسکاؤنٹ پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، مالیاتی منڈیوں کے مبصرین کا خیال ہے کہ جے پی مورگن کی یہ رپورٹ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، کیونکہ امریکی معیشت کا استحکام پوری دنیا کے مالیاتی نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔