LIVE
Loading Breaking News...

ایشیا کے لیے تیل کے ٹینکرز کے کرایوں میں بڑا اضافہ

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور رس رسد کے ممکنہ بحران کے نتیجے میں ایشیا کی طرف تیل کے ٹینکرز کے کرایوں میں شدید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات کے پیش نظر، ایشیا کی طرف جانے والے تیل کے ٹینکرز کے اخراجات میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں اس صورتحال نے تاجروں اور شپنگ کمپنیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ سمندری راستوں بالخصوص آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں سلامتی کے خدشات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، سرمائے کی اس لاگت اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا براہ راست اثر ایشیائی منڈیوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور ممکنہ جنگی صورتحال نے موسم سرما سے قبل ایک کامل طوفان کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ سعودی عرب اور یمن کے تنازع میں مزید الجھنے کے بعد تیل کی سپلائی لائنز کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش یا رکاوٹوں کے خدشات منڈی پر اثر انداز ہو رہے تھے، اور اب بحیرہ احمر کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ شپنگ کمپنیوں نے ان خطرات کے پیش نظر اپنے انشورنس پریمیم اور کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس بحران کا سب سے بڑا اثر ایشیائی معیشتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ کے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ ٹینکرز کی نقل و حرکت مہنگی ہونے کی وجہ سے خام تیل کی درآمدات کی لاگت آسمان کو چھو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی اور سفارتی سطح پر کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی تو آنے والے ہفتوں میں توانائی کی قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت کو مہنگائی کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔