World
غزہ ڈاکیومنٹری نازا: اسرائیلی تنظیموں اور فلم سازوں کا یکجہتی بیان
اسرائیل کی چالیس سے زائد تنظیموں اور دو سو سے زائد فلم سازوں نے غزہ پر دستاویزی فلم 'نازا' بنانے والے ہدایت کاروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ یہ اقدام ایک اسرائیلی وزیر کی جانب سے فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسرائیل میں چالیس سے زائد فلاحی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں غزہ تنازع پر دستاویزی فلم بنانے والے ہدایت کاروں کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا گیا ہے۔ جروشلم پوسٹ اور دی گارڈین کی رپورٹس کے مطابق یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک اسرائیلی وزیر نے فلم سازوں کی جانب سے غزہ پر بنائی جانے والی متنازع دستاویزی فلم 'نازا' پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس دھمکی کے بعد ملک اور بیرون ملک فلمی صنعت میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
فلمی صنعت سے وابستہ شخصیات اور آزاد ذرائع ابلاغ کے مطابق، دو سو سے زائد اسرائیلی فلم سازوں اور تخلیق کاروں نے بھی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور اپنے ساتھیوں کی آزادیِ اظہار کا دفاع کیا ہے۔ دستاویزی فلم 'نازا' کا مقصد مبینہ طور پر غزہ میں جاری انسانی المیے اور فوجی کارروائیوں کے زمینی حقائق کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ اس فلم کے سامنے آنے کے بعد جہاں ایک طرف سخت گیر حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف سول سوسائٹی کی بڑی تعداد اس کے حق میں سامنے آ گئی ہے۔
اسرائیلی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں فنکاروں اور فلم سازوں کو ریاست کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے یا حقائق کو اپنے نقطہ نظر سے پیش کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے، اور محض اختلافِ رائے کی بنیاد پر شہریت چھیننے جیسی دھمکیاں انتہائی خطرناک مثال قائم کرتی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور اسے اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔