LIVE
Loading Breaking News...

پانی کی کمپنیوں کی نگرانی: میئرز کو نئے اختیارات دیئے جانے کا امکان

News Image
برطانیہ میں پانی کی کمپنیوں کے احتساب اور بہتر منصوبہ بندی کے لیے نو نئے علاقائی ادارے بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان اداروں کے تحت میئرز کو پانی کے نظام کی نگرانی اور اہداف طے کرنے کے اہم اختیارات مل سکتے ہیں۔
برطانیہ میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑی اصلاحاتی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت ملک بھر کے میئرز کو پانی کی کمپنیوں کی نگرانی کے خصوصی اختیارات دیے جا سکتے ہیں۔ اس نئی تجویز کا بنیادی مقصد پانی کے شعبے میں شفافیت لانا اور کمپنیوں کو ان کی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے پر جوابدہ بنانا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران پانی کی کمپنیوں کی کارکردگی اور ماحولیاتی ضابطہ کاری پر عوامی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد حکومت اور متعلقہ ادارے اس نوعیت کے موثر اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق ملک بھر میں نو نئے علاقائی ادارے قائم کیے جائیں گے جن کا بنیادی کام طویل المدتی منصوبہ بندی کرنا، کارکردگی کے اہداف کا تعین کرنا اور متعلقہ کمپنیوں کی کارکردگی کا سخت محاسبہ کرنا ہوگا۔ ان نئے علاقائی اداروں کے قیام سے مقامی قیادت بالخصوص میئرز کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنے علاقوں کے اندر پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں براہ راست کردار ادا کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا گیا تو اس سے نہ صرف پانی کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی کے تنازعات میں بھی کمی واقع ہوگی۔ شہریوں کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ پانی کی نجی کمپنیوں کے منافع کے ساتھ ساتھ ان کی عوامی خدمات کے معیار پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔ یہ نئے اختیارات مقامی حکومتوں کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ عوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے پانی کے اداروں سے بروقت اور معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تجویز پر تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور جلد ہی اس حوالے سے حتمی خاکہ سامنے لایا جائے گا تاکہ اصلاحاتی عمل کو قانونی شکل دی جا سکے۔