LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی امریکہ کو وارننگ، توانائی کے تنصیبات پر ممکنہ حملوں کا سخت جواب دینے کا اعلان

News Image
امریکہ کی جانب سے ممکنہ حملوں کی اطلاعات کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے میں جنگ کی آگ مزید بھڑک سکتی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ان کا جوابی پلان مکمل طور پر تیار ہے۔
تہران: امریکہ کی جانب سے ایران کی توانائی اور دیگر اہم تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تہران نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے جارحانہ اقدامات سے خطے میں جنگ کی آگ مزید پھیل سکتی ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے کسی بھی ممکنہ امریکی حملے یا جارحیت سے نمٹنے کے لیے اپنے جوابی منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے اور مسلح افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی میڈیا میں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ واشنگتن کی جانب سے تہران کے خلاف سویلین اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان اطلاعات کے منظر عام پر آنے کے بعد تہران اور واشنگتن کے درمیان لفظی جنگ میں بھی شدت آ گئی ہے، اور سفارتی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایرانی عسکری و سیاسی قیادت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے کوئی بھی حماقت کی گئی تو ایران خاموش تماشائی نہیں رہے گا بلکہ فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی خطے کے دیگر ممالک اور عالمی برادری نے بھی اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے تاکہ ایک بڑی جنگ کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ توانائی کی تنصیبات پر حملے کے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔