World
ترکیہ میں ایل جی بی ٹی کیو کارکنوں کی گرفتاریاں اور حکومتی کریک ڈاؤن
ترکیہ کی حکومت کی جانب سے ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی اور کارکنوں کو نشانہ بنانے والی مہم میں تیزی آ گئی ہے۔ پولیس نے حالیہ کارروائی کے دوران ملک بھر سے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
ترکیہ میں حکام نے ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ+) کمیونٹی اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں سے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ گرفتاریاں ترک حکومت کی اس وسیع تر مہم کا حصہ ہیں جو گزشتہ کچھ عرصے سے اس کمیونٹی اور اس کے سرکردہ کارکنوں کے خلاف جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی اداروں کی جانب سے اس بظاہر سخت پالیسی کا مقصد روایتی خاندانی اقدار کا تحفظ بتایا جا رہا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں بنیادی آزادیوں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں کے خدشات بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ترکیہ حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے افراد کو اس طرح نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حراست میں لیے جانے والے افراد کے وکیلوں اور حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان کی گرفتاریاں سیاسی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا ہے۔ ترکیہ میں اس معاملے پر سماجی اور سیاسی حلقوں کے اندر بھی شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک طرف جہاں قدامت پسند اور حکومتی حامی حلقے اس کریک ڈاؤن کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف سول سوسائٹی اور لبرل طبقات اس پر شدید احتجاج کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے باعث ترکیہ کے اندرونی سیاسی ماحول اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔