World
اسرائیل کے لیے دو ارب آٹھ کروڑ ڈالر کے بموں کی فروخت کا منصوبہ
ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے دو ارب آٹھ کروڑ ڈالر مالیت کے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی فروخت کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس اقدام پر خطے میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے شدید بین الاقوامی تنقید کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو دو ارب آٹھ کروڑ ڈالر مالیت کے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی فروخت کا ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس اہم دفاعی معاہدے کا مقصد خطے میں اسرائیل کی عسکری صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا ہے، تاہم اس فیصلے نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی خطے میں عام شہریوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے سخت تنقید کی جاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ مجوزہ ہتھیار ایسے وقت میں فروخت کیے جا رہے ہیں جب پہلے ہی مشرق وسطیٰ کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور شہری آبادی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے تباہ کن ہتھیاروں کی فراہمی سے تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا اور پرامن حل تلاش کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔ دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے دفاعی تعاون کے پابند ہیں اور یہ اقدامات خطے میں سکیورٹی توازن برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے دو ہزار پاؤنڈ کے بم انتہائی طاقتور مانے جاتے ہیں جو عسکری اور شہری دونوں طرح کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی اسی قسم کے بموں کے استعمال پر انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکی کانگریس یا دیگر ادارے اس بڑے دفاعی معاہدے کے خلاف کوئی موثر آواز اٹھاتے ہیں یا یہ عمل بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے مکمل ہو جاتا ہے۔ خطے کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہ پیش رفت نہایت اہمیت کی حامل ہے۔