LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صحت کا نظام اور کینسر کا علاج، ماہرین کے تحفظات

News Image
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کینسر کا علاج دریافت بھی ہو جائے تو موجودہ امریکی طبی نظام ہر مریض کو یہ سہولت فراہم کرنے سے قاصر ہوگا۔ یہ بیان امریکی صحت کے نظام کی بنیادی خامیوں اور چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکہ کے صحت کے نظام کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک نکتہ سامنے آیا ہے جہاں ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا موجودہ طبی ڈھانچہ اس بات کی اہلیت رکھتا ہے کہ وہ ملک کے تمام کینسر کے مریضوں کا مؤثر علاج کر سکے۔ بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹیڈ اوکن نے انکشاف کیا ہے کہ اگر آنے والے وقتوں میں کینسر کا کوئی حتمی علاج یا ویکسین دریافت بھی ہو جائے، تب بھی ریاستہائے متحدہ امریکہ کا موجودہ صحت کا نظام اس پوزیشن میں نہیں ہوگا کہ وہ اس علاج کو ہر ضرورت مند مریض تک پہنچا سکے۔ اس بیان نے امریکی طبی شعبے کی کارکردگی اور اس کی رسائی پر ایک بار پھر گہرے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ امریکہ میں صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات پہلے ہی آسمان کو چھو رہے ہیں اور عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ علاج معالجے کے جدید ترین طریقے اور ادویات اتنی مہنگی ہیں کہ ان کا بوجھ عام بیمہ کمپنیاں یا عام شہری اٹھانے سے قاصر ہیں۔ اس پس منظر میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی معجزانہ علاج سامنے آ بھی گیا، تو اس کی تقسیم میں اتنی رکاوٹیں ہوں گی کہ غریب اور پسماندہ طبقات اس سے محروم رہ جائیں گے۔ طبی نظام کی یہ کمزوری انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بن سکتی ہے جہاں وسائل کی کمی اور منصفانہ تقسیم کا فقدان سب سے بڑا رکاوٹ بنتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ صرف سائنسی تحقیق اور نئی ادویات کی تیاری ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی انقلابی تبدیلیوں سے گزارنا ہوگا۔ ہسپتالوں کی صلاحیت کو بڑھانا، ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور ہر شہری تک بلا امتیاز طبی سہولیات کی رسائی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ بصورت دیگر، علاج کی موجودگی کے باوجود لاکھوں افراد بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے اپنی جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امریکی پالیسی ساز صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ میں صرف نئی ٹیکنالوجی کا آجانا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے استعمال کو عوام دوست بنانا اصل چیلنج ہے۔ اگر ریاست نے اس چیلنج سے بروقت عہدہ برآ ہونے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی مرتب نہ کی، تو صحت کا یہ بحران آنے والے دنوں میں مزید گہرا ہو سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی طبی پالیسیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔