LIVE
Loading Breaking News...

انتھروپک سی ای او کا بیان: عالمی معیشت میں اے آئی کی تیزرفتار ترقی کا اعتراف

News Image
انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کتنی تیزی سے عالمی معیشت کی بنیاد بن جائے گی۔ انہوں نے اے آئی کی رفتار اور اس کے معاشی اثرات پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا کی معروف کمپنی انتھروپک (Anthropic) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے ایک حالیہ بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہیں اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کتنی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دنیا بھر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن جائے گی۔ ان کا یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے شعبے بالخصوص اے آئی میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے اور یہ ہر چھوٹے بڑے کاروبار کو متاثر کر رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق، پچھلے چند برسوں میں جنریٹو اے آئی اور لارج لینگویج ماڈلز نے جس تیزی سے ترقی کی ہے، اس نے روایتی صنعتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انتھروپک کے سربراہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اگرچہ وہ خود اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے عمل کا ایک اہم حصہ ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کے پھیلاؤ اور عالمی معیشت میں اس کی جڑیں مضبوط ہونے کی رفتار ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ تیز تھی۔ اس تیزرفتار ترقی نے جہاں ایک طرف معاشی ترقی کے نئے در وا کیے ہیں، وہیں دوسری طرف دنیا بھر کے پالیسی سازوں، ماہرینِ معیشت اور محققین کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اے آئی کی وجہ سے روزگار کے مواقع، کاروباری ماڈلز اور پیداواری صلاحیت میں جو تبدیلیاں آ رہی ہیں، ان کے دور رس نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کو کیسے ضابطے میں لایا جائے تاکہ اس کے فوائد سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے اور اس کے ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا یہ سفر یہیں نہیں رکے گا بلکہ آنے والے برسوں میں اس کی رفتار میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔ انتھروپک کے سی ای او کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے تخلیق کار خود بھی اس کی قوتِ ارتقاء اور معاشرے پر اس کے ہمہ گیر اثرات کی رفتار سے حیران ہیں۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی بنیاد انسانی دنیا کو کس سمت لے کر جاتی ہے۔