World
ساؤدی عرب کا یورپ کے لیے تیل کی ترسیل منسوخ کرنے کا فیصلہ
ساؤدی عرب نے بحیرہ احمر کی طرف جانے والی اہم برآمدی پائپ لائن پر حملے اور اس کی بندش کے بعد یورپ کے لیے تیل کی کچھ ترسیل معطل کردی ہے۔ اس فیصلے سے عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی اور قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ساؤدی عرب نے بحیرہ احمر کی طرف جانے والی اپنی اہم برآمدی پائپ لائن پر ہونے والے حملوں اور اس کی بندش کے بعد یورپ کے لیے تیل کی کچھ ترسیل کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک بڑا دھماکا ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی رس رسد شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کے مطابق، پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ صورتحال پر جلد قابو پایا جا سکے۔
حالیہ ہفتوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے توانائی کے عالمی سپلائی چین کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مشرق مغرب پائپ لائن ساؤدی تیل کی نقل و حرکت کے لیے ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے ذریعے تیل کو خلیج فارس سے بحیرہ احمر کے راستے بین الاقوامی منڈیوں بالخصوص یورپ تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس پائپ لائن کی بندش کے باعث اب ساؤدی حکام کو متبادل راستوں اور ترسیلی نظام کا جائزہ لینا پڑ رہا ہے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اس سپلائی میں تعطل کی وجہ سے یورپی مارکیٹوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ یورپ پہلے ہی توانائی کے بحران اور روس یوکرین جنگ کے اثرات سے دوچار ہے، اور ایسے میں ساؤدی تیل کی ترسیل منسوخ ہونا یورپی ممالک کے لیے نئی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ ساؤدی وزارتِ توانائی کی جانب سے فی الحال اس بات کی باضابطہ تفصیلات نہیں دی گئیں کہ یہ تعطل کتنے عرصے تک برقرار رہے گا۔
عالمی منڈی کے مبصرین اور سرمایہ کار اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک اوپیک (OPEC) کے اراکین پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافے پر غور کریں۔ ادھر سکیورٹی ادارے حملے کے ذمہ دار عناصر کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے پرخطر واقعات کو روکا جا سکے اور توانائی کے اہم راہداریوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔