World
کانگو روانڈا جنگ اور جنیوا مذاکرات کی اندرونی کہانی
مشرقی کانگو میں امن قائم کرنے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جنیوا میں اہم سفارتی مذاکرات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کانگو اور روانڈا کے درمیان جاری اس تنازعے میں ایم 23 باغی تنظیم کا اثر و رسوخ اور سیکیورٹی خدشات اہم ترین مسائل ہیں۔
مشرقی جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں طویل عرصے سے جاری پرتشدد تنازعے اور سیکیورٹی بحران کو حل کرنے کی غرض سے بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں جنیوا میں اہم مذاکرات کا انعقاد کیا گیا ہے تاکہ کانگو اور روانڈا کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوئی قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرقی کانگو کے بڑے حصوں پر ایم 23 باغیوں کا کنٹرول برقرار ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں اور خطے میں انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔
حکومتِ کانگو یعنی کنشاسا اور روانڈا کی حکومت یعنی کیگالی کے درمیان خودمختاری اور سیکیورٹی کے معاملات پر اختلافات طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ کنشاسا کا مؤقف ہے کہ روانڈا کی جانب سے مبینہ طور پر مشرقی کانگو میں سرگرم ایم 23 باغی گروپ کی پشت پناہی کی جا رہی ہے، جس سے ملک کی علاقائی سلامتی اور خود مختاری کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ دوسری جانب، کیگالی کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور اس کے اپنے سرحدی سیکیورٹی خدشات ہیں، جن میں روانڈا مخالف عسکریت پسندوں کی موجودگی کا معاملہ سرفہرست ہے۔ ان باہمی بداعتمادیوں اور تنازعات کی وجہ سے خطے میں امن کی بحالی کی تمام تر کوششیں بار بار تعطل کا شکار ہوتی رہی ہیں۔
جنیوا میں جاری ان نئے مذاکرات کا بنیادی مقصد فریقین کو ایک میز پر لانا اور علاقائی سلامتی کے اس نازک مسئلے پر بات چیت کے ذریعے کوئی حل نکالنا ہے۔ عالمی برادری اور علاقائی رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جنگ کا یہ لامتناہی سلسلہ نہ صرف کانگو کے عوام کے لیے تباہ کن ہے بلکہ پورے وسطی افریقی خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل اور کٹھن مرحلہ ہے، تاہم جنیوا کے یہ مذاکرات خطے میں ایک نئی امید کی کرن لے کر آئے ہیں تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور بات چیت کے دروازے کھولے جا سکیں۔