LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی فوج میں اعتماد کا بحران، سدی تیمان کا واقعہ

News Image
مسلسل تین سال کی طویل جنگ نے اسرائیلی فوج کے اندر نظم و ضبط اور احکامات کی تعمیل کو مشکوک بنا دیا ہے۔ حالیہ واقعات نے یہ عیاں کر دیا ہے کہ فوج کے اندر اندرونی بے چینی اور بداعتمادی کی لہر شدت اختیار کر چکی ہے۔
تل ابیب: گزشتہ تقریباً تین سال سے جاری کھلی جنگ اور تنازعات نے اسرائیلی فوج کے اندرونی نظام کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے فوجیوں میں اعلیٰ احکامات کی اندھی تعمیل اب مشروط ہوتی جا رہی ہے۔ سدی تیمان کے مقام پر پیش آنے والے حالیہ واقعات نے اس بات کو کھل کر سامنے لا دیا ہے کہ کس طرح اسرائیلی فوج اندرونی طور پر اعتماد کے فقدان کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق، اتنے طویل عرصے تک جاری رہنے والے جنگی حالات نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ خود عسکری حلقوں میں بھی گہرے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ طویل محاذ آرائی اور شدید دباؤ کے باعث صف اول کے فوجیوں میں ذہنی تناؤ اور کمانڈ کے فیصلوں پر عدم اعتماد بڑھتا جا رہا ہے۔ ماضی میں اسرائیلی فوج کے اندر جس نظم و ضبط اور فوری اطاعت کو اس کی طاقت سمجھا جاتا تھا، اب وہ اندرونی اختلافات اور اخلاقی سوالات کی نذر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ سدی تیمان کا واقعہ اسی بڑھتی ہوئی کشمکش اور بے چینی کی ایک کڑی ہے، جس نے عسکری قیادت کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ اسرائیلی ریاست کے بنیادی ڈھانچے اور دفاعی صلاحیت کو بھی گہرے طور پر متاثر کریں گے۔ فوج کے اندر بڑھتی ہوئی یہ دراڑیں اس بات کا غماز ہیں کہ مسلسل جنگی جنون نے معاشرے اور اداروں دونوں کو اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کر دیا ہے، اور اب فوجی بھی اپنے فرائض کی انجام دہی میں کھلے عام سوالات اٹھانے لگے ہیں۔