LIVE
Loading Breaking News...

عراقی وزیراعظم اور مسلح گروہوں کے درمیان کشمکش اور سعودی تیل تنصیبات پر حملے

News Image
عراقی وزیراعظم کو ملک میں متحرک مسلح دھڑوں پر قابو پانے میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ سینیئر عراقی ذرائع نے ستمبر میں سعودی عرب کی پائپ لائن پر ہونے والے حملے کے پیچھے ایک مسلح گروہ کے منحرف عناصر کی نشاندہی کی ہے۔
عراق میں حالیہ عرصے کے دوران مسلح گروہوں کی سرگرمیاں اور ان پر ریاستی کنٹرول کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ سینیئر عراقی حکارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ستمبر میں سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ہونے والے حملے کے پیچھے ایک نام نہاد مزاحمتی گروہ کے منحرف عناصر کا ہاتھ تھا۔ یہ صورتحال عراقی حکومت اور وزیراعظم کے لیے اندرونی اور بیرونی سطح پر ایک بڑا امتحان بن گئی ہے، جہاں ریاست کو اپنے ہی ملک میں موجود طاقتور مسلح دھڑوں کی لگام کھینچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عراقی حکومت کی رٹ اب بھی کمزور ہے اور بعض عسکری دھڑے ریاستی پالیسی سے ہٹ کر خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے اس واقعے نے خلیجی ممالک اور عراق کے تعلقات میں بھی تناؤ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، جسے ناکام بنانے کے لیے بغداد حکومت کو سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر متحرک ہونا پڑ رہا ہے۔ سینیئر ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقی وزیراعظم اس بات کے خواہاں ہیں کہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم کی جائے اور کسی بھی غیر ریاستی عنصر کو بیرونی یا اندرونی تخریبی سرگرمیوں کے لیے عراقی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ کئی عسکری گروہ زمین پر اپنی الگ ہندسی اور سیاسی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں فوری طور پر قابو کرنا کسی بھی حکمران کے لیے آسان کام نہیں۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے عراقی سکیورٹی فورسز کو مزید اختیارات دینے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے عناصر کا قلع قمع کیا جا سکے جو ملک کی سلامتی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ عالمی برادری بھی عراق کی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ بغداد حکومت جلد ہی ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گی تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور تیل کی رسد کے بین الاقوامی راستے محفوظ رہ سکیں۔