LIVE
Loading Breaking News...

امریکی کانگریشنل رپورٹ: ایران جنگی کشیدگی اور اسلحے کی کمی پر انکشافات

News Image
ایک غیر جانبدار تحقیقی ادارے کی کانگریشنل رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی وجہ سے امریکہ میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور اس کے فوجی ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ختم ہونے والے گولہ بارود کے ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے میں پانچ سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک اہم غیر جانبدار تحقیقی ادارے کی جانب سے جاری کردہ کانگریشنل رپورٹ میں یہ انتباہ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات کے نتیجے میں امریکی معیشت پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ امریکی افواج کے پاس موجود گولہ بارود اور دفاعی ساز و سامان کے ذخائر بھی خطرناک حد تک کم ہوتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر جاری بحرانوں کے دوران امریکی عسکری تیاری کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ عسکری کارروائیوں اور مختلف محاذوں پر رسد کی فراہمی کی وجہ سے واشنگٹن کے دفاعی ذخائر تیزی سے خالی ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انخلا یا بحران کے لمحات میں استعمال ہونے والے اہم ہتھیاروں اور گولہ بارود کی کمی مستقبل میں امریکہ کی دفاعی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ دفاعی بجٹ اور مینوفیکچرنگ کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے تحقیقی ادارے نے اندازہ لگایا ہے کہ ان تمام ختم ہونے والے یا کم ہونے والے ذخائر کو ان کی پہلی والی سطح پر واپس لانے کے لیے کم از کم پانچ سال کا طویل عرصہ درکار ہوگا۔ اس صورتحال کا دوسرا بڑا پہلو معاشی دباؤ اور مہنگائی میں اضافہ ہے، جو عام شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ دفاعی پیداوار میں اضافے اور عالمی رس رسد کے مسائل کی وجہ سے تجارتی منڈیوں میں قیمتیں اوپر جا رہی ہیں، جس سے امریکی عوام کو مہنگائی کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ کانگریشنل رپورٹ میں قانون سازوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دفاعی بجٹ کی تقسیم اور جنگی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیں تاکہ ملکی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور فوجی تیاری کو بھی مستحکم رکھا جا سکے۔ سیاسی اور عسکری حلقوں میں اس رپورٹ کے بعد گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا واشنگٹن اپنی موجودہ خارجہ پالیسی اور عسکری مصروفیات کو طویل مدت تک برقرار رکھ پائے گا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایران یا دیگر خطوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو امریکہ کو دفاعی اور معاشی دونوں محاذوں پر انتہائی کٹھن فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فی الحال، بائیڈن انتظامیہ اور کانگریس کے اراکین اس رپورٹ کے مندرجات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔