World
سعودی اتحاد کا حوثیوں پر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا الزام
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مقدس شہر مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے کا ہدف بنایا۔ دوسری جانب حوثیوں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک جھوٹ قرار دیا ہے جبکہ عالمی سطح پر اس کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ریاض: سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم اتحاد نے بدھ کے روز الزام عائد کیا ہے کہ باغیوں نے مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد مسلم دنیا میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور خطے میں جاری تنازع میں مزید شدت آ گئی ہے۔ سعودی اتحاد نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حرمین شریفین اور زائرین کی سیکیورٹی ایک 'ریڈ لائن' ہے جسے عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اتحادی فوج کے ترجمان ترکی المالکی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مخلوط فورسز دہشت گرد حوثی ملیشیا کے خلاف ضروری اور فیصلہ کن اقدامات کرنے سے گریز نہیں کریں گی۔
دوسری جانب، حوثی سیاسی بیورو کے ایک رکن حازم الاسد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی تمام خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک 'سفید جھوٹ' قرار دیا ہے۔ حوثیوں کا اصرار ہے کہ اس قسم کے بے بنیاد الزامات کا مقصد پروپیگنڈا کرنا ہے۔ اس دوران اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اس قبیح حرکت کی شدید مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے یمن کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بحیرہ احمر اور باب المندب کے اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں پر بھی سیکیورٹی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جو تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھی حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں حوثیوں کی عسکری کشیدگی اور سعودی عرب پر مسلسل حملے خطے کو انتہائی خطرناک موڑ پر لے آئے ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ مملکت کے دفاع کے حق کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ دریں اثنا، سعودی عرب اور مصر نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے کیونکہ اس تنازع سے عالمی سطح پر معاشی چیلنجز بھی پیدا ہو رہے ہیں۔