Business
پاکستان میں توانائی کا بحران اور وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کا اعلان
خلیجی توانائی کے راستے بند ہونے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے بعد وفاقی وزراء نے توانائی کے بحران پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم کی فیول ریلیف اسکیم کو ملک بھر میں توسیع دی جا رہی ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
اسلام آباد: خلیجی خطے میں توانائی کی ترسیل کے راستے مؤثر طریقے سے بند ہونے اور عالمی منڈی میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث وفاقی کابینہ کے ارکان نے ملک میں توانائی کی صورتحال بالخصوص ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، وزراء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بروقت اور دانشمندانہ منصوبہ بندی کی بدولت ملک کو ایک بدتر بحران سے بچا لیا گیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران توانائی کے امور اور موسمیاتی تبدیلی کے وزراء نے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پر روشنی ڈالی۔
موسمیاتی تبدیلی کے وزیر نے وضاحت کی کہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کی وجہ سے حکومت پر شدید معاشی دباؤ ہے۔ اس بیرونی جھٹکے کو جزوی طور پر برداشت کرنے اور معاشرے کے کمزور طبقوں کو ریلیف دینے کے لیے وزیر اعظم کی فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل سواروں کو ہر ہفتے پانچ لیٹر جب کہ کار مالکان کو ہر دس دن میں دس لیٹر تک سستا پٹرول فراہم کیا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ ریلیف قیمتوں کے مکمل اثرات کو زائل کرنے کے لیے کافی نہیں، تاہم ملکی معیشت اس سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب، توانائی کے وزیر نے ہرمز اور باب المندب کے راستوں میں رکاوٹوں کے باوجود ملکی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2026ء میں کل بجلی کی پیداوار کا 72 فیصد حصہ مقامی وسائل سے حاصل کیا گیا، جن میں ہائیڈل، مقامی کوئلہ، جوہری توانائی اور مقامی گیس شامل ہیں، جبکہ درآمد شدہ کوئلے اور ایل این جی کا حصہ صرف 28 فیصد رہا۔ حکام کے مطابق ایل این جی کی سپلائی میں خلل کے باوجود مقامی گیس کے بروقت حصول سے ملک کو مہنگی گیس کی خریداری سے بچایا گیا اور اضافی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات ملی۔
دریں اثنا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی افواہوں کو حکومت نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ یا زیر غور بات چیت نہیں ہوئی۔ حکومت ملک میں معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور صوبائی سطح پر فیول ریلیف اسکیم کی شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ مستحقین تک ریلیف بروقت پہنچ سکے۔