LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائی کورٹ کا افغان ڈاکٹر کی ٹریننگ سے متعلق اہم فیصلہ

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا بے دخلی کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے افغان ڈاکٹر کو تربیت جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان ہائی کورٹ نے افغان طلبا کی اسی نوعیت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں افغان نژاد ڈاکٹر عماد الدین کے خلاف جاری کردہ بے دخلی کے حکم کو معطل کرتے ہوئے انہیں پاکستان میں اپنی پوسٹ گریجویٹ طبی تربیت جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے ان کی ملک بدری پر بھی روک لگا دی ہے اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے اس نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا جس کے تحت تمام افغان طلبا اور ٹرینیز کو واپس بھیجنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یہ حکم جسٹس خادم حسین سومرو نے ڈاکٹر عماد الدین کی اہلیہ اور پاکستانی شہری مہر ظہور کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔ درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر قاسم نواز عباسی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سی کا 31 جولائی 2026 کا خط ان ڈاکٹروں پر اطلاق نہیں کرتا جو پہلے ہی اپنی ٹریننگ کے آخری مراحل میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عماد الدین کوئی نئے امیدوار نہیں ہیں بلکہ وہ بہاول وکٹوریہ اسپتال اور قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور میں یورولوجی کے شعبے میں ایف سی پی ایس ٹریننگ کے پانچویں اور آخری سال میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ متعلقہ ادارے نے ان کی ٹریننگ میں باقاعدہ طور پر ایک سال کی توسیع بھی کی تھی۔ وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ بغیر کسی پیشگی نوٹس کے ٹریننگ منسوخ کرنا آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور اس سے اس خاندان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد پی ایم ڈی سی کے اس خط کے اطلاق کو ڈاکٹر عماد الدین کی حد تک معطل کر دیا اور فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ دوسری جانب اس کے برعکس بلوچستان ہائی کورٹ نے افغان نیشنلز کی میڈیکل تعلیم اور ٹریننگ جاری رکھنے سے متعلق دائر درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ جسٹس محمد عامر نواز رانا اور جسٹس عبد القیوم لہری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ غیر ملکی شہریوں کو پاکستان میں مستقل طور پر رہنے یا تعلیم حاصل کرنے کا مطلق حق حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے آبزرو کیا کہ امیگریشن اور ملکی سلامتی کے امور ایگزیکٹو اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ افغان شہریوں کے ساتھ قانون کے مطابق انسانی رویہ اختیار کیا جائے۔