World
اسرائیل کا غزہ انخلا منصوبہ اور بنجمن نیتنیاہو کے سیاسی مسائل
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کو غزہ سے ممکنہ انخلا اور غیر فوجیانے کے منصوبے پر شدید سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ سیاسی حلیفوں کی مخالفت اور اندرونی دباؤ کے باعث اس امن منصوبے پر عمل درآمد مشکل ہو گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کو ایک بار پھر شدید سیاسی گش کش اور اندرونی بحران کا سامنا ہے، کیونکہ غزہ سے ممکنہ انخلا اور اس کے بعد کے امن منصوبے پر حکومتی صفوں میں شدید اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب غزہ کو غیر فوجیانے اور وہاں سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے حوالے سے ایک جامع لائحہ عمل زیر غور آیا۔ نیتنیاہو کی حکومت میں شامل دائیں بازو کے انتہا پسند اتحادی اس قسم کے کسی بھی سمجھوتے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی پیدا ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کی صورتحال اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اتحادی شراکت داروں کی طرف سے دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر وزیر اعظم نے عسکری دباؤ میں کمی کی یا فوج کو مکمل طور پر واپس بلانے کا کوئی بھی معاہدہ کیا تو وہ حکومت سے الگ ہو جائیں گے۔ اس کشمکش نے نیتنیاہو کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے، کیونکہ ایک طرف انہیں اتحادیوں کو خوش رکھنا ہے اور دوسری طرف اندرونی و بیرونی سطح پر امن کے قیام کے لیے اقدامات کرنے کا دباؤ بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں نے بھی موجودہ حکومت کو اس صورتحال پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ ذاتی سیاسی مفادات کے لیے ملکی سلامتی اور جنگی حکمت عملی کو یرغمال بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نیتنیاہو نے اس سیاسی دلدل سے نکلنے کے لیے کوئی متوازن لائحہ عمل طے نہ کیا، تو نہ صرف ان کی حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی تمام تر کوششیں بھی دھرے کی دھرے رہ جائیں گی۔ آنے والے چند روز اسرائیلی سیاست کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔