Pakistan
سندھ اسمبلی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ اضافے پر تشویش کا اظہار
سندھ اسمبلی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ ایوان میں تحریک انصاف کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس میں سیاسی تقسیم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔ ایوان میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن محمد اویس کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد میں موقف اختیار کیا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے روزانہ کے اتار چڑھاؤ کو صارفین پر منتقل نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ پاکستان میں ہر روز تیل کی کوئی نئی کھیپ یا درآمد نہیں آتی۔ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ چکا ہے اور عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
قرارداد پر بحث کے دوران سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں جبکہ وفاقی حکومت پیٹرول پر فی لیٹر سو روپے سے زائد کا لیوی ٹیکس وصول کر رہی ہے جسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت کی اتحادی ہونے کے ناطے اس معاملے پر مرکز سے بات کرے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں ایم کیو ایم نے معمولی اضافے پر احتجاجاً حکومت چھوڑ دی تھی لیکن اب وہ خاموشی سے اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے اور وفاقی کابینہ میں شامل وزراء کو اس معاملے پر خاموشی توڑنی چاہیے۔
بعد ازاں میڈیا کارنر پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بعض طبقات کے لیے پیٹرول پر سو روپے کی سبسڈی ناکافی ہے اور اس سے غریب عوام کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ انہوں نے وزیراعظم پر زور دیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور پیٹرول پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی جائے کیونکہ براہ راست قیمتوں میں کمی ہی عوام کو اصل ریلیف دے سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرول صرف اشرافیہ استعمال نہیں کرتی بلکہ اشیائے خورونوش کی نقل و حمل بھی اسی پر انحصار کرتی ہے، اس لیے جب تک ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم نہیں ہوں گے تب تک مہنگائی پر قابو پانا ناممکن ہے۔
اجلاس کے دوران خواتین کی ترقی سے متعلق صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے سوال و جواب کے سیشن میں بتایا کہ صوبے بھر میں خواتین کے لیے شکایات کے مراکز فعال ہیں اور ڈویژنل سطح پر ان کے دفاتر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی کی جاتی ہے اور خواتین کو مختلف پروگرامز کے تحت ہنر سکھایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں دیگر ایجنڈے کے بعد کورم پورا نہ ہونے یا اتفاق رائے کے بعد اجلاس جمعہ تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔