World
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مکہ دفاعی معاہدے اور حوثی حملوں پر اہم بیان
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ مکہ کا دفاعی معاہدہ کسی بھی جارحانہ علاقائی عزائم کا حامل نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد اجتماعی ڈیٹرنس فراہم کرنا ہے۔ حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی سکیورٹی اور خطے کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کا کوئی بھی علاقائی یا جارحانہ مقصد نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد خطے میں اجتماعی ڈیٹرنس کو فروغ دینا اور اہم مقامات کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالیہ دنوں میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کی زد میں آنے والے شہروں میں جده اور مکہ بھی شامل ہیں جہاں سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سعودی سول ڈیفنس نے تصدیق کی ہے کہ ینبوع سمیت چھ شہروں میں خطرہ ٹل چکا ہے اور صورتحال اب قابو میں ہے۔ اس کے باوجود خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مختلف ممالک سفارتی اور دفاعی سطح پر رابطے کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔ پاکستان کے عسکری ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے بالخصوص سعودی عرب کی سلامتی پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے مسلم ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور دفاعی تعاون کا حامی رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دفاعی معاہدے کا مقصد کسی کے خلاف محاذ آرائی کرنا نہیں بلکہ مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانا ہے تاکہ خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی بیرونی یا اندرونی خطرے کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔