World
مکہ مکرمہ پر ڈرون حملہ اور سعودی عرب کا سخت ردعمل
سعودی عرب نے اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی ڈرون کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اسے ایک بڑی ریڈ لائن قرار دیا ہے۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔
سعودی عرب نے حال ہی میں اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی ایک خطرناک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین پر کسی بھی قسم کا حملہ ایک ایسی ریڈ لائن ہے جسے پار نہیں کیا جا سکتا۔ سعودی حکام کے مطابق اس عسکری اقدام میں ایک دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کو مکہ مکرمہ کے قریب ہی فضا میں تباہ کر دیا گیا، جس سے کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کا بروقت سدباب ہو گیا۔ اس کارروائی کے بعد عالم اسلام میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف ممالک اور تنظیموں کی جانب سے اس واقعے کی بھرپور مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ واقعے کے فوراً بعد آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن یعنی او آئی سی کی جنرل سیکرٹریٹ نے بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں پر اس طرح کے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ مقدس مقامات کروڑوں مسلمانوں کے عقیدت کا مرکز ہیں اور اس طرح کی جارحیت خطے کے امن کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ او آئی سی کے اعلیٰ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم دنیا کے مقدس ترین خطوں کی سکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے اس حملے میں اپنے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ حوثی ترجمانوں کا موقف ہے کہ انہوں نے اس قسم کا کوئی بھی ڈرون حملہ مکہ مکرمہ کی سمت نہیں کیا۔ تاہم، سعودی عرب اور اس کے اتحادی بین الاقوامی فورسز کا اصرار ہے کہ یہ ڈرون اسی عسکری نیٹ ورک کا حصہ تھا جو خطے میں ایرانی پشت پناہی سے کارروائیاں کر رہا ہے۔ اس واقعے نے ایک ایسے وقت میں جنم لیا ہے جب پہلے ہی خطے میں تناؤ کی کیفیت برقرار ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ اس سنگین واقعے کے بعد یمن تنازعے اور سکیورٹی کی صورتحال میں مزید پیچیدگی آسکتی ہے۔