Pakistan
پاکستان میں توانائی کا بحران اور پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد وزراء نے ملک میں توانائی کے سنگین بحران کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور ریلیف اسکیموں کے نفاذ کے باوجود مشکلات برقرار ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی منڈی کے حالات کے پیش نظر ملک میں توانائی کے ایک نئے اور سنگین بحران کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کو اس وقت شدید چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تمام حدیں پار کر چکی ہیں اور مہنگائی کی لہر نے عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔ حکومت نے عوام پر مالی بوجھ مزید بڑھاتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں چار روپے سے زائد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں چھ روپے سے زائد فی لیٹر کا ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
حکومتی ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے ہنگامی مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیرِ مملکت اور حکومتی رہنما طارق فضل چوہدری نے ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں ملک کے بعض حصوں میں ایندھن کی قلت کے باعث اسمارٹ لاک ڈاؤن لگائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور ایندھن کی سپلائی کو بلاتعطل جاری رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق انتہائی گھمبیر ہیں۔
دوسری جانب، کاروباری حلقوں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے حالیہ ایندھن پر سبسڈی دینے کے اعلانات بھی مسائل کا مکمل حل پیش نہیں کر سکے، کیونکہ سبسڈی کا یہ نظام اکثر مستحق افراد تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پاتا۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹس کے مطابق معیشت دانوں نے موجودہ پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکمت عملی سے مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آ رہا۔ ریڈیو پاکستان کی اطلاعات کے مطابق حکومت نے ایندھن ریلیف اسکیم کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کا اعلان کیا ہے تاکہ عام شہریوں کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے، لیکن بڑھتی ہوئی قیمتیں اس ریلیف کے اثرات کو زائل کر رہی ہیں۔
ماہرینِ اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط اور ملکی توانائی کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے طویل مدتی اور موثر حکمت عملی طے نہ کی گئی، تو آنے والے دنوں میں صنعتوں کا پہیہ رک سکتا ہے اور روزمرہ کی زندگی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اور عوامی حلقے بھی حکومت کی اس پالیسی پر سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کے مارے عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہباز حکومت اس دباؤ سے نکلنے کے لیے آئندہ دنوں میں کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔