LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں بچوں کے استحصال کے کیسز پر سینیٹ کمیٹی کا اجلاس

News Image
پاکستان میں سال دو ہزار پچیس کے دوران بچوں کے استحصال کے سترہ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے مجرموں کی کم سزا کی شرح پر شدید تنقید کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد: پارلی ایوان بالا یعنی سینیٹ کی ایک بااختیار کمیٹی نے ملک بھر میں بچوں کے جنسی استحصال اور تشدد کے بڑھتے ہوئے خوفناک واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ اور سرکاری رپورٹس کے مطابق سال دو ہزار پچیس کے دوران پورے پاکستان میں بچوں کے استحصال اور جنسی جرائم کے سترہ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں جو کہ معاشرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی نے مجرموں کو سزائیں دلانے کی انتہائی کم شرح پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں اہم سرکاری حکام کو طلب کر لیا ہے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ اگر وقت پر مجرموں کو کڑی سزائیں نہ دی گئیں تو اس قبیح فعل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ملک کی فرسٹ لیڈی نے بھی اس نازک مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا ہے کہ وہ معصوم بچوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ اور مربوط کوششیں کریں۔ ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام کے لیے نہ صرف قانون پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے بلکہ والدین اور اساتذہ کو بھی اس ضمن میں بچوں کی تربیت اور آگاہی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ اس ناسور کو معاشرے سے جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔