LIVE
Loading Breaking News...

صدر مملکت نے پمز اسپتال کی بہادر نرس کے لیے تمغہ شجاعت منظور کرلیا

News Image
صدر مملکت نے پمز اسپتال میں ہولناک آتشزدگی کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود بچے کی جان بچانے والی نرس کے لیے تمغہ شجاعت کی منظوری دے دی ہے۔ نرس کے اس شجاعانہ اقدام کو اعلیٰ ترین سطح پر سراہا گیا ہے۔
اسلام آباد کے وفاقی دارالحکومت میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے ایک ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے دوران انتہائی فرض شناسی اور شجاعت کا مظاہرہ کرنے والی نرس کے لیے صدر مملکت نے 'تمغہ شجاعت' کی منظوری دے دی ہے۔ اس بہادر نرس نے انتہائی کٹھن اور خطرناک حالات میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر اسپتال کے وارڈ میں لگی آگ کے دوران ایک معصوم نومولود کی جان بچائی تھی، جس پر پورے ملک میں انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پمز اسپتال کے مخصوص وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف افرا تفری پھیل گئی۔ اس ہنگامہ خیز صورتحال میں جب مریضوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، اس نرس نے اپنی ذاتی حفاظت کو پس پشت ڈالتے ہوئے شعلوں کی لپیٹ میں آئے ہوئے حصے میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے انتہائی پھرتی اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں موجود ایک نومولود بچے کو بحفاظت باہر نکالا اور اس کی زندگی بچانے میں کامیاب رہیں۔ اس بہادری کے اعتراف میں اعلیٰ حکومتی اور ریاستی حلقوں کی جانب سے صدر مملکت کو سمری ارسال کی گئی تھی، جس پر فوری طور پر عمل کرتے ہوئے صدر پاکستان نے تمغہ شجاعت دینے کی منظوری دی۔ عوامی حلقوں، سول سوسائٹی اور طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے نرس کے اس جذبے کو تاریخی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے فرض شناس اور بہادر افراد ہی ہمارے معاشرے اور اداروں کا اصل سرمایہ ہیں۔ اس اعزاز سے نہ صرف اس نرس کی خدمات کا اعتراف ہوا ہے بلکہ پورے میڈیکل اسٹاف کے بلند حوصلے کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔