LIVE
Loading Breaking News...

سعودی تیل پائپ لائن بند، آبنائے ہرمز سے ترسیل جاری

News Image
سعودی عرب نے اہم تیل پائپ لائن بند ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کے راستے ترسیل میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی رسد کو برقرار رکھنا ہے۔
سعودی عرب نے اپنی اہم تیل پائپ لائن کو نقصان پہنچنے اور اس کی بندش کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک متبادل حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، پائپ لائن پر حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے باعث تیل کی برآمدات شدید متاثر ہوئی تھیں، جس کے بعد سعودی حکام نے روایتی راستے یعنی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی کمی کو پورا کرنا اور قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پائپ لائن کی بندش کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہلچل دیکھی گئی تھی، اور اس نئے اقدام سے مارکیٹ کے خدشات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ سیٹلائٹ تصاویر اور خبر رساں اداروں کی رپورٹس سے انکشاف ہوا تھا کہ پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے سعودی عرب کے پاس آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کے ذریعے تیل بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں توانائی کے اہم راستوں کی سکیورٹی اور خطے میں جاری تنازعات کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے اس قدم سے جہاں ایک طرف ترسیل کا بحران ٹلنے کی امید ہے، وہیں دوسری طرف آبنائے ہرمز پر بڑھنے والے دبائو کا جائزہ بھی بین الاقوامی سطح پر لیا جا رہا ہے۔