Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، سعودی عرب کی نئی پیشکش
سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے تیل کی اضافی رسد کی فراہمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں اضافے کی اطلاعات نے بھی مارکیٹ کے رجحان پر اثر ڈالا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت معمولی کمی دیکھنے میں آئی جب سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے تیل کی اضافی رسد منڈی میں لانے کی پیشکش کی گئی۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اقدام کا مقصد سپلائی کے خدشات کو دور کرنا اور عالمی منڈی میں استحکام لانا ہے۔ تیل کے تاجر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ اضافی رسد موجودہ جغرافیائی سیاسی تناؤ اور طلب و رسد کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوگی یا نہیں۔
دوسری جانب، امریکہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وہاں کے خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع طور پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے بھی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ کشننگ کے مقامات پر تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی کے باوجود مجموعی امریکی ذخائر میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے عالمی منڈی میں تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں اور سرمایہ کار آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے انتظار کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
اس کے علاوہ، امریکی فیڈرل ریزرو کے متوقع فیصلوں سے قبل بھی تیل کی قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ شرح سود اور دیگر مالیاتی پالیسیوں کے حوالے سے مرکزی بینک کے فیصلے براہ راست توانائی کی طلب کو متاثر کریں گے۔ قدرتی گیس اور تیل کی حالیہ پیشگوئیوں کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کو امریکی ذخائر میں اضافے کی وجہ سے سخت مقابلے کا سامنا ہے جبکہ سعودی سپلائی کے خطرات بھی بدستور منڈی میں موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی اشاریے اور OPEC+ کے فیصلے تیل کی قیمتوں کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔ اگرچہ عمان کے راستے سپلائی بڑھانے سے عارضی طور پر دباؤ کم ہوا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور عالمی طلب کی بحالی ایسے عوامل ہیں جو قریبی مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ بن سکتے ہیں۔