World
برطانیہ کا گاؤں پڈنگٹن پناہ گزین اسکیم پر برطانیہ سے الگ ہونے کے حق میں
برطانیہ کے گاؤں پڈنگٹن کے مکینوں نے قریبی علاقے میں ہزاروں پناہ گزینوں کی رہائش کی اسکیم کے خلاف ایک علامتی ریفرنڈم میں برطانیہ سے علیحدگی کا ووٹ دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد حکومت کی جانب سے پناہ گزینوں کی آبادکاری کے منصوبے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔
برطانیہ کے ایک چھوٹے اور پُرسکون گاؤں پڈنگٹن کے رہائشیوں نے حکومت کی جانب سے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو علاقے میں بسانے کے منصوبے کے خلاف ایک انوکھا اور علامتی قدم اٹھایا ہے۔ مقامی لوگوں نے قریبی مقام پر ایک ہزار سے زائد مرد پناہ گزینوں کی رہائش کی مجوزہ اسکیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے علامتی طور پر برطانیہ سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ یہ ریفرنڈم علاقے میں بڑھتے ہوئے انتظامی دباؤ اور مقامی آبادی کے تحفظات کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ حکومتی منصوبے کے تحت اس پُرآسائش اور محدود وسائل والے علاقے میں تقریباً বারہ سو سے زائد پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کی تجویز پیش کی گئی تھی، جس پر مقامی مکینوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں نئے افراد کی آمد سے علاقے کے بنیادی ڈھانچے، طبی سہولیات اور امن و امان کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس علامتی ریفرنڈم کی قانونی حیثیت برطانوی آئین یا حکومت کے نزدیک کوئی باضابطہ اہمیت نہیں رکھتی، تاہم اس کے ذریعے پڈنگٹن کے عوام نے اپنی حکومت کو ایک واضح سیاسی اور سماجی پیغام دیا ہے۔ اس منفرد ووٹنگ کے ذریعے مقامی آبادی نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف اپنی گہری ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور وہ اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ مقامی کمیونٹی کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔ دوسری جانب، حکومتی حلقوں کی جانب سے اس احتجاج پر تاحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن اس واقعے نے ملک بھر میں پناہ گزینوں کی آبادکاری کے معاملے پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔