LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کی اے آئی ضابطہ بندی کی مخالفت کی وجوہات

News Image
بی بی سی کی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر سارہ سمتھ نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اے آئی کے ضابطوں کے حق میں کیوں نہیں ہیں۔ وہ ان مصنوعی ذہانت کے رہنماؤں کی مخالفت کر رہے ہیں جو ٹیکنالوجی کی ترقی کو سست کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا رکھی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر دنیا بھر کے کئی بڑے ٹیک رہنماؤں اور ماہرین نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو کچھ عرصے کے لیے سست کیا جائے تاکہ اس کے ضابطے اور قواعد و ضوابط مرتب کیے جا سکیں۔ اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف اس سے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے، جو اس قسم کی پابندیوں یا ضابطہ بندی کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ بی بی سی کی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر سارہ سمتھ نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں اس بات کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے یا اس پر کڑی نظر رکھنے والے قوانین کے مخالف کیوں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کا ماننا ہے کہ سخت ضابطے امریکہ کی تکنیکی برتری کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اس ابھرتی ہوئی صنعت میں نویں کاروباری مواقع یا مسابقت کو محدود کر سکتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس شعبے میں بغیر کسی رکاوٹ کے جدت اور ترقی کا سفر جاری رہے۔ ٹیک انڈسٹری کے اندر بھی اس موضوع پر شدید بحث جاری ہے۔ ایک طرف جہاں کچھ بڑے ادارے حفاظتی اقدامات اور اخلاقی ضابطوں کی بات کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف آزادانہ مارکیٹ کے حامی سیاستدان اور کاروباری شخصیات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ حکومت کی مداخلت سے ترقی کی رفتار سست ہو جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا شمار اسی سوچ کے حامیوں میں ہوتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی معیشت کو عالمی سطح پر آگے رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کو مکمل آزادی دی جانی چاہئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے ضوابط اور قوانین کے حوالے سے یہ بحث مزید شدت اختیار کرے گی کیونکہ جیسے جیسے اے آئی کی صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں، اس کے معاشرتی، معاشی اور سیاسی اثرات بھی واضح ہو رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ امریکی پالیسی ساز اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں، خاص طور پر جب صدر ٹرمپ کا مؤقف اس معاملے میں بالکل واضح ہے۔