Politics
لیزا نینڈی کا آر این ایل آئی رضاکاروں کے کوائف آن لائن لیک ہونے پر نوٹس
برطانوی ثقافتی امور کی سیکرٹری لیزا نینڈی نے آر این ایل آئی رضاکاروں اور دیگر افراد کے پتے آن لائن شائع کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس عمل کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
برطانیہ کی ثقافتی امور کی سیکرٹری لیزا نینڈی نے حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے جس میں رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوشن (آر این ایل آئی) کے رضاکاروں اور دیگر افراد کے ذاتی پتے اور کوائف آن لائن شائع کر دیے گئے تھے۔ اس عمل کو 'ڈاکسنگ' (doxxing) کہا جاتا ہے جہاں کسی شخص کی ذاتی معلومات اس کی رضامندی کے بغیر انٹرنیٹ پر عام کی جاتی ہیں۔ سیکرٹری نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کی جان بچاتے ہیں، انہیں اس قسم کی ہراسانی اور خطرات کا نشانہ بنانا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔
حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے نہ صرف رضاکاروں کی ذاتی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ اس سے فلاحی اور امدادی اداروں کے رضاکارانہ کاموں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آر این ایل آئی کے رضاکار سمندر میں پھنسے ہوئے لوگوں کی جان بچانے کے لیے دن رات خدمات انجام دیتے ہیں، اور ان کے ذاتی کوائف کو اس طرح عوامی سطح پر افشا کرنا ان کی حفاظت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ اس قسم کے سائبر حملوں اور آن لائن غنڈہ گردی میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔
لیزا نینڈی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایسی پالیسیاں وضع کی جا رہی ہیں جن سے آن لائن پرائیویسی کے تحفظ کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے تمام آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی زور دیا کہ وہ اس قسم کے غیر قانونی مواد کو فوری طور پر ہٹائیں اور اس بات کی نگرانی کریں کہ مستقبل میں اس طرح کی غیراخلاقی حرکات کا اعادہ نہ ہو۔ حکومت کا یہ قدم ملک بھر میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے افراد کے حوصلے بلند کرنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا रहा ہے۔