LIVE
Loading Breaking News...

پی پی پی اور ن لیگ میں لفظی جنگ، مظفرآباد انتخابات سے قبل سیاسی درجہ حرارت بلند

News Image
وفاقی حکومت میں اتحادی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے موقع پر ایک بار پھر شدید لفظی جنگ میں الجھ گئی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے ماضی کے ادوار اور حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر مبنی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ سے قبل حکمران اتحاد میں شامل دو اہم جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ ن (ن لیگ) کے درمیان لفظی جنگ میں مزید تیزی آ گئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے نہ صرف موجودہ انتخابی عمل بلکہ ماضی کی حکومتوں اور سابقہ ادوار میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے ایک دوسرے پر کڑی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سیاسی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب میرپور ڈویژن کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی نے وہاں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا۔ حالیہ لفظی تبادلے میں ن لیگ کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کا سخت جواب دیتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری کے انتخاب اور سابقہ سیاسی تاریخ پر سوالات اٹھائے۔ رانا ثناء اللہ نے جہلم ویلی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم کے حاصل کردہ ووٹوں کو فارم 47 کے ووٹ کہا جاتا ہے تو صدر مملکت نے کس فارم کے ذریعے ووٹ حاصل کیے تھے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ الزامات عائد کرنے سے پہلے اپنی تاریخ کا جائزہ بھی لینا چاہئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر سیاسی شخصیات پر بھی تبصرے کیے جن سے سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے ن لیگ پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن نے تاریخ میں کبھی بھی عام انتخابات دھاندلی کے بغیر نہیں جیتے ہیں۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی طاقت سے سیاست کی ہے جبکہ ن لیگ کو ہمیشہ مبینہ طور پر دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا۔ انہوں نے 1988، 1990، 1993، 1997 اور 2013 کے انتخابات کے علاوہ حالیہ 2024 کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام مواقع پر ن لیگ کو فائدہ پہنچایا گیا اور پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔ واضح رہے کہ اس سیاسی گرما گرمی کے درمیان آزاد کشمیر کے انتخابات کے مختلف مراحل طے کیے جا رہے ہیں، جہاں اتوار کو مظفرآباد ڈویژن کے نو حلقوں میں پولنگ کا دوسرا مرحلہ منعقد ہونا ہے۔ دونوں جماعتیں مرکز میں اتحادی ہونے کے باوجود خطے میں اپنی سیاسی برتری قائم کرنے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف کھل کر میدان میں اتری ہوئی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کشیدہ ماحول کے اثرات وفاقی حکومت کی سطح پر بھی پڑ سکتے ہیں کیونکہ دونوں جماعتوں کے رہنما انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی کارکردگی اور ماضی کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔