World
نورا عریقات فلوریڈا میں اسرائیل بانڈز کی تقریب میں گرفتار
فلسطینی نژاد امریکی انسانی حقوق کی وکیل نورا عریقات کو فلوریڈا میں اسرائیل بانڈز کی سرمایہ کاری کے خلاف آواز اٹھانے پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ واقعہ ایک عوامی سماعت کے دوران پیش آیا جہاں انہوں نے پالیسیوں پر شدید تنقید کی تھی۔
امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں انسانی حقوق کی معروف فلسطینی نژاد وکیل نورا عریقات کو ایک سرکاری سماعت کے دوران اسرائیل بانڈز میں سرمایہ کاری کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نورا عریقات اس تقریب میں موجود تھیں اور انہوں نے اسرائیل بانڈز کے حوالے سے جاری مالیاتی پالیسیوں پر شدید تنقید کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسی سرمایہ کاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا سبب بنتی ہے اور اس کی کڑی مخالفت کی جانی چاہیے۔ پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہونے پر انتظامیہ کی مداخلت کے بعد انہیں حراست میں لیا گیا۔ اس گرفتاری کی خبر سامنے آتے ہی دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور فلسطینی حامیوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور مختلف فورمز پر نورا عریقات کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ اس واقعے نے امریکہ میں اظہارِ رائے کی آزادی اور اسرائیل پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے حق پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس گرفتاری کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف اس طرح کے سخت اقدامات سے گریز کیا جائے۔ نورا عریقات خود قانون کی پروفیسر اور ایک جانی پہچانی کارکن ہیں جو طویل عرصے سے فلسطینی حقوق کے لیے بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ اس تازہ واقعے کے بعد امریکہ بھر میں فلسطینی حقوق کے حامیوں کی جانب سے مزید احتجاجی مظاہروں کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ اس کارروائی کے خلاف آواز بلند کی جا سکے اور زیر حراست وکیل کی فوری اور غیر مشروط رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔