LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ایوان نے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کر لی

News Image
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے تیسری بار جنگی قرارداد منظور کر لی ہے۔ اس رائے شماری میں سات ریپبلکن ارکان نے بھی حزبِ اختلاف کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک اہم فیصلے کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے اختیارات کو ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ یہ تیسرا موقع ہے کہ ایوان نے اس نوعیت کی جنگی اختیارات کی قرارداد کی منظوری دی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑی فوجی کشیدگی کو قانونی اور آئینی دائرے میں روکا جا سکے۔ اس قرارداد کا بنیادی مقصد صدر کے ان اختیارات کو محدود کرنا ہے جو وہ بغیر کانگریس کی باقاعدہ منظوری کے فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس رائے شماری کے دوران ایک قابل ذکر سیاسی تبدیلی دیکھنے میں آئی جہاں حکموت مخالف جماعت کے علاوہ سات ریپبلکن ارکانِ اسمبلی نے بھی حکومتی صفوں سے ہٹ کر اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ریپبلکن اراکین کی جانب سے اس حمایت نے اس قرارداد کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون ساز ادارے میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ غیر ضروری عسکری اقدامات ملک کو ایک اور طویل جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔ قرارداد کی منظوری کے بعد واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور اس اقدام کو کانگریس کی آئینی بالادستی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے اور فوجی بجٹ کی منظوری دینے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، تاہم ماضی میں صدور نے ایگزیکٹو اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کئی فوجی اقدامات کیے ہیں۔ یہ قرارداد اب سینیٹ میں جائے گی جہاں اس پر مزید بحث متوقع ہے۔