LIVE
Loading Breaking News...

جولائی 2026ء بدترین مہینہ: 205 جاں بحق اور 401 دہشت گرد ہلاک

News Image
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جولائی 2026ء سال کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا ہے جس میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں سمیت 205 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں میں 401 دہشت گردوں کو بھی جہنم واصل کیا گیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں جولائی کے دوران پرتشدد واقعات میں تیز رفتار اضافہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں یہ مہینہ سال 2026ء کا اب تک کا سب سے خونریز مہینہ قرار پایا ہے۔ اسلام آباد کے تھنک ٹینک 'پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز' (پی آئی سی ایس ایس) کی طرف سے جاری کردہ ماہانہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق جولائی کے مہینے میں سکیورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 205 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 112 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ اس دوران فورسز نے کارروائیاں کرتے ہوئے 401 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی یہ تعداد جنوری 2023ء کے بعد کسی بھی ایک ماہ میں سب سے زیادہ اور ایک دہائی کے دوران دوسری بلند ترین ماہانہ شرح ہے۔ اس کے علاوہ جولائی کے مہینے میں 74 شہری اور امن کمیٹیوں کے 19 ارکان بھی دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق جولائی میں کُل 232 افراد زخمی ہوئے جن میں 101 سکیورٹی اہلکار، 103 شہری، 14 امن کمیٹی کے ارکان اور 14 دہشت گرد شامل ہیں۔ جون کے مقابلے میں جولائی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں میں 195 فیصد، دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں 109 فیصد اور شہریوں کی اموات میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مزید برآں، جولائی میں کم از کم آٹھ خودکش حملے بھی رکارڈ کیے گئے جن میں پانچ گاڑیوں کے ذریعے کیے جانے والے خودکش حملے بھی شامل ہیں۔ صوبائی تناظر میں دیکھا جائے تو سکیورٹی کی صورتحال سب سے زیادہ بلوچستان میں ابتر ہوئی جہاں مجموعی اموات میں 241 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور ہلاکتوں کی تعداد جون کے 109 سے بڑھ کر جولائی میں 372 تک پہنچ گئی۔ صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں 6 سے بڑھ کر 62 ہو گئیں جبکہ دہشت گردوں کی ہلاکتیں 75 سے بڑھ کر 238 ہو گئیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے اہم اضلاع میں بھی 154 اموات ریکارڈ کی گئیں جو کہ جون کے مقابلے میں 105 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس، پنجاب، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں جولائی کے دوران کوئی بڑا دہشت گرد واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم سکیورٹی فورسز نے پنجاب میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران تین مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ مجموعی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو سال 2026ء کے پہلے سات مہینوں کے دوران دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے نتیجے میں کُل 2,786 اموات ہو چکی ہیں۔ ان جاں بحق ہونے والوں میں 1,857 دہشت گرد، 463 شہری، 434 سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 32 امن کمیٹی کے ارکان شامل ہیں۔ تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران ماہانہ اوسط شہادتیں اور ہلاکتیں پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ رہی ہیں، جو کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز اور فورسز کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔