World
چین کا ایران کے حقوق کے تحفظ اور تعلقات مستحکم کرنے کا عزم
چین نے تہران کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور ایران کے جائز حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ بیجنگ سے قبل دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے میں تیزی آئی ہے۔
بیجنگ: چین نے کہا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کے درمیان ایران کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ چینی حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور بیجنگ کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے تیز ہو گئے ہیں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ آئندہ بدھ کو بیجنگ کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینا اور خطے کے اہم امور پر مشاورت کرنا ہے۔ دوسری جانب، عالمی ذرائع ابلاغ اور رپورٹس میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے خطے کا سیکیورٹی ماحول مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اس پس منظر میں چین نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے یہ روابط بین الاقوامی سیاست میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ بیجنگ نے ہمیشہ خطے میں سفارتی حل کی حمایت کی ہے اور وہ تہران کے ساتھ اپنے معاشی و سٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے، جن کے اثرات پوری دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ کی سیاست پر مرتب ہوں گے۔