Business
وزیر اعظم اپنا گھر سکیم: اسٹیٹ بینک کا بینک ملازمین کیلئے فنانسنگ پر پابندی کا فیصلہ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت بینک ملازمین کے فنانسنگ حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ شفافیت کو یقینی بنانے اور عام شہریوں کو اس سکیم کا براہ راست فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام تجارتی اور اسلامی بینکوں کے ملازمین پر اس سکیم کے تحت ہاؤسنگ فنانسنگ حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ مرکزی بینک کا یہ اقدام اس اسکیم کے دائرہ کار کو شفاف بنانے اور عام عوام کو بغیر کسی مفادات کے ٹکراؤ کے اس سہولت سے مستفید کرنے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس پابندی سے فنڈز کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے گی اور عام شہریوں کو قرضوں کے حصول میں ترجیحی بنیادوں پر آسانی ہوگی۔
ابتدائی طور پر وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کا مقصد ملک کے کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کو اپنے ذاتی گھر کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے آسان اقساط پر قرض فراہم کرنا تھا۔ تاہم، اس بات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ بینکوں کے اپنے ملازمین اس سہولت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس سے عام آدمی کے لیے وسائل کم ہونے کا خدشہ تھا۔ اسٹیٹ بینک کے اس تازہ ترین حکم نامے کے بعد تمام بینکوں کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو اس مخصوص سرکاری پروگرام کے تحت قرضے جاری نہ کریں۔
بینکنگ ذرائع کے مطابق، تمام متعلقہ مالیاتی اداروں کو اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور اس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پبلک سیکتور کی ہاؤسنگ اسکیموں میں میرٹ اور شفافیت کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سرکاری امداد اور آسان شرائط پر ملنے والے فنانسنگ پیکجز صرف اور صرف ان حقیقی مستحقین تک پہنچیں جن کے پاس اپنے گھر کی تعمیر یا خریداری کے لیے مناسب وسائل موجود نہیں ہیں۔